Saturday, January 14, 2012

ایک فی البدیہہ غزل : نذرِ ابنِ انشا مرحوم


احمد علی برقی اعظمی
جو کچھ بہ تم سے پایا ہے،اب میرا یہی سرمایا ہے
‘‘انشا نے سہی فرمایا ہے،جو کچھ ہے یہاں’’ سب مایا ہے
ہیں رشتے ناتے مطلب کے،کوئی بھی کسی کا نہیں یہاں

کوئی اپنا نہ پرایا ہے،جو کچھ ہے ہیان سب مایا ہے
تم دامِ فریب میں مت آنا یہ تم کو شکار بنائیں گے
سب نے اک جال بچھایا ہے،جو کچھ ہے ہیان سب مایا ہے
چلتی پھرتی تصویروں مین مت ڈھونڈ سکونِ قلب و جگر
اک دامِ فریب یہ کایا ہے، جو کچھ ہے یہاں سب مایا ہے
پھرتے ہیں رکابی مذہب جو سب پیٹ کے بندے ہیں برقی
کھو جائے گا جو پایا ہے،جو کچھ ہے یہاں سب مایا ہے
ابن انشاء-شاعر ترا، انشاء ترا
11 جنوری 1978 انشاء جی کی تاریخ وفات ہے، گزشہ کل گزرے اس دن کو پاکستان کے چند ٹی وی چینلز نے یاد رکھا اور خبر نشر کی لیکن کسی نے انشاء جی کی قبر کی تصویر نہ دکھائی، وجہ اس کی یہ ہے کہ انشاء جی کی قبر پر کتبہ نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل شام مغرب کے وقت مشفق خواجہ صاحب کی لائبریری کا قصد تھا اور وہاں حآضری سے قبل خیال آیا کہ انشاء جی کو سلام کرلیا جائے۔ دو برس پیشتر آج ٹی وی کے ایک رپورٹر جن کو ہم جناب ابن صفی کی قبر پر لے گئے تھے، قریب سے گزرتے وقت ہاتھ کے اشارے سے کہا تھا
“یہ انشاء جی کی قبر ہے”
جس طرف وہ ہاتھ کا اشارہ کرتا تھا وہ قبرستان کا داخلی رستہ تھا، گاڑی چشم زدن میں اس کے سامنے سے گزر گئی تھی۔ اس روز نہ صرف انشاء جی کی بے نام و نشان قبر ملی بلکہ وہاں اطمینان سے فاتحہ پڑھنے کا موقع بھی نصیب ہوا.
سلمان علوی نے انشاء جی کے اس کلام (انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو) کے جواب میں قتیل کی غزل ‘یہ کس نے کہا تم کوچ کرو‘ گا کر حق ادا کردیا ہے
یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی
جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی
کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی
تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی
بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی
اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی
نہیں صرف “قتیل“ کی بات یہاں، کہیں “ساحر“ ہے کہیں “عالی“ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
کراچی کے دوڑتے بھاگتے بے رحم ٹریفک سے بے نیاز، لب سڑک ہمارا پسندیدہ شاعر محو استراحت ہے، ایک پختہ احاطے میں خاندان کی پانچ قبریں— کتبہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بے خبر – ہاں مگر ایک پھول بیچنے والا باخبر نکلا
اللہ تعالی جنت میں درجات بلند فرمائے
تو باوفا، تو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا ترا
ہم پر یہ سختی کی نظر؟ ہم ہیں فقیر راہگزر
رستہ کبھی روکا ترا، دامن کبھی تھاما ترا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں لیکن تو اتنا بھی نہیں
اک شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کیا کیا ترا
پی آئی سے کی جس فلائٹ سے انشاء جی کا تابوت آتا تھا اس کے پائلٹ نے استاد امانت علی کی آواز میں ‘انشاء جی اٹھو‘ لگادی تھی مسافر سنتے رہے اور روتے رہے تھے۔ استاد کی گائی اس غزل کو بغیر آنسو بہائے نہیں سنا جاسکتا۔
بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں پساریں پاوں
نیند سی نیند ہمیں اب نہ جگانا لوگو
ایک ہی شب ہے طویل، اتنی طویل، اتنی طویل
اپنے ایام میں امروز نہ فردا لوگو
گلوکار فیصل لطیف نے انشاء جی کا کلام ‘سب مایا ہے‘ خوب گایا ہے، احباب اسے یہاں سن سکتے ہیں:

زیر نظر پوسٹ کے ہمراہ چند تصاویر منسلک کررہا ہوں۔ پہلی تصویر انشاء جی کی قبر کی ہے، دوسری میں درمیان والی قبر انشاء جی کی ہے، تیسری تصویر میں انشاء جی اور جمیل الدین عالی صاحب ہیں، چوتھی تصویر میں پاکستان ٹیلی وژن کے ایک انٹرویو میں ابن انشاء تشریف رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ اشفاق احمد و بانو قدسیہ، فرہاد زیدی اور جمیل الدین عالی ہیں۔ آخری تصویر مین انشاء جی، ضیاء محی الدین اور ناصر جہاں ہیں
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے

No comments: